مولانا سید شاہ معزالدین قادری ملتانی

مولانا سید شاہ معزالدین قادری ملتانی کے ابتدائی حالات زندگی




نام : مولانا سید شاہ معزالدین قادری ملتانی
تخلص : معزٓ
ولادت : 24/ اکتوبر 1905ء حیدرآباد دکن
وفات : 28/ جون 1987ء حیدرآباد انڈیا


مولانا معزٓ کی پیدائش 24 شعبان 1322ھ مطابق 24 اکتوبر 1905ء بروز منگل حیدرآباد میں ہوئی۔ چونکہ علامہ معز کے آباء کا سلسلہ رشد و ہدایات سے معمور تھا، اس لئے روز و شب گھر کی فضا تصوف و عرفانیات کی بحث و مباحث سے گونجتی رہتی تھی۔ دوران تحقیق اس بات کا بھی علم ہوا کہ معز ملتانی صاحب کے والد نے بطور خاص اپنے بڑے فرزند حضرت معز ملتانی کو عربی، فارسی، تفسیر، حدیث، تصوف و عرفان مذہب سے کماحقہ روشناس کرایا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ انگریزی تعلیم سے بھی نابلد نہ رکھا۔ معلوم ہوا کہ علامہ معز سے 1921-22ء کے دوران ہی یعنی سولہ سال کی عمر میں ہی ان سارے علوم پر دسترس حاصل کرلی تھی۔ اس کے علاوہ جامعہ نظامیہ (حیدرآباد کی مشہور عالم دینی درسگاہ) سے مولوی کامل کا امتحان کامیاب کرلیا۔ دینی علوم سے ہٹ کردنیاوی علوم کی ڈگریاں بھی لیں۔ یعنی جامعہ عثمانیہ سے بی اے اور ایم اے بھی امتیاز کے ساتھ حاصل کیں، مشہور محقق و نقاد بانی ایوان اردو و بانی ادارہ ادبیات اردو ڈاکٹر سید محی الدین قادری زورؔ جو بعد میں کشمیر یونیورسٹی میں ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ آف اردو کے ذمہ دار عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ مولانا معز ملتانی کے ہم جماعت تھے مولانا معز کے اساتذہ مولوی عبدالحق تھے۔ جن کو بابائے اردو کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ ہی سجا مرزا اور وحید الدین سلیم تھے، آپ علیہ رحمہ نہ صرف اردو انگریزی کے ماہر تھے بلکہ آپکو دیگر کئی زبانوں پر نہ صرف دسترس تھی بلکہ وہ ان تمام زبانوں میں روانی کیساتھ تقریر بھی کرسکتے تھے، مولانا معز کے گھر کا ماحول اگرچہ کٹر مذہبی تھا اس کے باوجود ان کا میلان فطری طور پر موسیقی سے بے حد قریب تھا۔ لہذا مولانا معز ملتانی نے نہ صرف موسیقی کی تعلیم حاصل کی، بلکہ اس فن میں ملکہ بھی حاصل کیا۔ موسیقی سے ان کی گہری دلچسپی کا سبب اس وقت کے حیدرآباد کے شاہی خاندان کی ادبی اور فنون لطیفہ کی شاہی سرپرستی کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ ریاست حیدرآباد کا سارا ماحول نہایت پرامن ہوا کرتا تھا نہ چوری ہوتی تھی، نہ کہیں ڈکیتی، نہ مار کاٹ، نہ خون خرابہ، ریاست حیدرآباد کی رعایا نہ صرف خوش حال تھی بلکہ مسرور و مطمئن زندگی گزارتی تھی۔ پولیس کے محکمہ میں سپاہی اور پولیس عہدہ دار تھانوں میں بقول کسے مکھیاں مارا کرتے تھے۔ راوی ہر طرف چین لکھتا تھا ہر طرف عیش و عشرت کا ماحول تھا ایسے میں مولانا معز ملتانی کا گھرانا کٹر دینی تھا، جس پر خانقاہی اثرات زیادہ حاوی تھے۔ خانقاہوں میں جہاں تصوف کی محفلیں سجتیں وہیں موسیقی یا سماع یا قوالیوں کی بزم آرائیاں بھی ہوتیں۔ ان محفلوں کا پرجوش نوجوان معز ملتانی پر خاص اثر پڑا، چنانچہ اسی اثر کے تحت نوجوان معز نے فن موسیقی میں صوتی موسیقی اور ستار نوازی میں خاص ملکہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ معز ملتانی ایک فطری شاعر تھے۔ شاعری اور موسیقی کے ملاپ نے آگ پر تیل کا کام کیا ان کی شہرت جوانی ہی میں چار دانگ عالم میں پھیل چکی تھیں۔ مولانا معز ملتانی سے جب بھی اس ناچیز کو بھی کئی بار مشاعروں میں اور مشاعروں کی تیاری کے سلسلہ میں شرف ملاقات حاصل ہوتا تھا، اور جب بھی یہ ناچیز ان سے ملتا انکی کوئی نہ کوئی پوشیدہ صلاحیت کا انکشاف اس ناچیز پر ضرور ہوتا، جن کا اجمالی ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ حضرت معز ملتانی علیہ رحمہ کا انداز تعلیم و تفہیم بالکل منفرد اور انقلابی نوعیت کا حامل تھا، جو طالبان حق کیلئے سلوک طے کرنے میں ممد ومعاون ہوتا تھا۔ اس طرح مقصد تخلیق انسانی کی تکمیل کی راہ ہموار ہوتی تھی۔ حضرت معز ملتانی کی مختصر لیکن جامع ارشادات بھی گویا معنویت کا بحر عمیق ہوتے تھے۔ احسن کما احسن اللہ الیک کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ کس طرح ممکن ہے کہ بندہ اللہ کے مثل احسان کرے پھر اس گتھی کو سلجھاتے ہوئے فرماتے کہ اس آیت میں نکتہ یہ ہے کہ ہر طرف ظاہر و موجود رہنے کے باوجود اللہ تعالی نے خود چھپ کر تجھ کو ظاہر کیا ہے اب تو چھپ کر اس کو ظاہر کر یعنی تو فنا فی الحق ہوجا پھر ’’جو ہے سو ہے‘‘ الغرض نظم ہو یا نثر عرفانی مفاہیم کے اظہار میں علامہ معز ملتانی کی مثال انکے عہد میں تو کیا آج بھی مشکل ہی سے ملتی ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں